TERHI LAKIR ٹیڑھی لکیر

Terhi Lakir Terhi Lakir
<span dir='ltr' class='left text-left'>TERHI LAKIR</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>ٹیڑھی لکیر</span>

PKR:   900/-

Author: ISMAT CHUGHTAI
Pages: 496
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-264-2
Categories: NOVEL

جب ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ شائع ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا میں نے ایک جنسی مزاج اور بیمار ذہنیت والی لڑکی کی سرگزشت لکھی ہے۔ علم نفسیات کو پڑھیے تو یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون بیمار ہے اور کون تندرست۔ ایک پارسا ہستی جنسی بیمار ہو سکتی ہے اور ایک آوارہ اور بدچلن انسان صحت مند ہو سکتا ہے۔ جنسی بیمار اور تندرست میں اتنا باریک فاصلہ ہوتا ہے کہ فیصلہ دشوار ہے مگر جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ کی ہیروئن نہ ذہنی بیمار ہےاور نہ جنسی۔ جیسے ہر زندہ انسان کو گندے ماحول اور آس پاس کی غلاظت سے ہیضہ، طاعون ہو سکتا ہے اسی طرح ایک بالکل تندرست ذہنیت کا مالک بچہ بھی اگر غلط ماحول میں پھنس جائے تو بیمار ہوجاتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
مگر شمن زندہ ہی نہیں ہے جاندار بھی ہے۔ اس پر مختلف حملے ہوتے ہیں لیکن ہر حملے کے بعد وہ پھر ہمت باندھ کر سلامت اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ہر امتحان سے گزر کر پُر سکون انداز میں اپنا سر تکیے پر ٹکا دیتی ہے اور ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کرنے کے بعد دوسرا قدم اٹھاتی ہے۔ یہ اس کا قصور نہیں ہے کہ وہ بے حد حساس اور ہر چوٹ پر منہ کے بل گرتی ہے مگر پھر سنبھل جاتی ہے۔ نفسیاتی اصولوں سے ٹکر لے کر وہ انہیں جھٹلا دیتی ہے۔ ہر طوفان سر سے گزر جاتا ہے۔
شمن کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ کوئی اسے سمجھ نہیں پاتا، وہ پیار کی محبت اور دوستی کی بھوکی ہے اور انھی نعمتوں کی تلاش میں بھیانک جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ اس کا دوسرا عیب ہے ضد ____ یا شاید یہی اس کی خوبی ہے۔ ہتھیار ڈال دینا اس کی طبیعت نہیں۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ میری آپ بیتی ہے۔ مجھے خود یہ آپ بیتی لگتی ہے۔ میں نے اس ناول کو لکھتے وقت بہت کچھ محسوس کیا ہے۔ میں نے شمن کے دل میں اترنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ آنسو بہائے ہیں او رقہقہے لگائے ہیں۔ اس کی کمزوریوں سے جل بھی اٹھی ہوں، اس کی ہمت کی داد بھی دی ہے۔ اس کی نادانیوں پر رحم بھی آیا ہے اور شرارتوں پر پیار بھی آیا ہے۔ اس کے عشق و محبت کے کارناموں پر چٹخارے بھی لیے ہیں اور حسرتوں پر دکھ بھی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ یہ میری آپ بیتی ہے تو کچھ زیادہ مبالغہ تو نہیں۔
اور جگ بیتی اور آپ بیتی میں بھی تو بال برابر کا فرق ہے۔ جگ بیتی اگر اپنے آپ پر بیتی محسوس نہ کی ہو تو وہ انسان ہی کیا؟ اور بغیر پرائی زندگی کو اپنائے ہوئے کوئی کیسے لکھ سکتا ہے۔
شمن کی کہانی کسی ایک لڑکی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ہزاروں لڑکیوں کی کہانی ہے۔ اس دور کی لڑکیوں کی کہانی ہے جب وہ پابندیوں اور آزادی کے بیچ ایک خلا میں لٹک رہی تھیں اور میں نے ایمانداری سے ان کی تصویر ان صفحات میں کھینچ دی ہے، تاکہ آنے والی لڑکیاں ا س سے ملاقات کر سکیں اور سمجھ سکیں کہ ایک لکیرکیوں ٹیڑھی ہوئی ہے اور کیوں سیدھی ہو جاتی ہے اور اپنی بچیوں کے راستے کو الجھانے کے بجائے سلجھا سکیں اور بجائے تنبیہ الغافلین کے اپنی بیٹیوں کے دوست اور رہنما بن سکیں۔

عصمت چغتائی
بمبئی

RELATED BOOKS