TAREEK RAAHON KAY MUSAFIR

Tareek Raahon Kay Musafir Tareek Raahon Kay Musafir Tareek Raahon Kay Musafir Tareek Raahon Kay Musafir
<span dir='ltr' class='left text-left'>TAREEK RAAHON KAY MUSAFIR</span> <span dir='rtl' class='right text-right'></span>

PKR:   900/-

Author: HONORE DE BALZAC
Pages: 304
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-263-5
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL
Tag: RAUF KLASRA

پسِ ورق:
دُنیائے ادب کے عظیم فرانسیسی ناول نگار ہنری ڈی بالزاک (1799-1850ء) کی ایک عظیم تخلیق جو انقلابِ فرانس کے بعد فرانسیسی معاشرے میں ابھرنے والے نئے رحجانات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ بالزاک اس وجہ سے بھی خوش قسمت ادیب کہلا سکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں میں انقلاب کی سُرخی لیے پیدا اور جوان ہوا۔ اگر نپولین ایک عام سپاہی سے ترقی کر کے فرانس کا مالک بن سکتا ہے تو پھر ہر شخص کچھ بھی کر کے ترقی کرسکتا ہے۔ اس سوچ نے فرانسیسی معاشرے کی شکل اور رُوح بھی بدل کر رکھ دی اور اسی انقلاب نے ایک بڑی ٹریجڈی کو جنم دیا۔ ایک خوبصورت، حسین، شرمیلی اور دیہاتی دوشیزہ یوجین کے عشق لاحاصل کی داستان جسے ایک روز پیرس سے آئے اپنے لٹے پٹے کنگال کزن سے محبت ہوگئی۔ یوجین نے ایک ایسی اذیت بھری زندگی کا انتخاب کیا جو ہر عاشق کی قسمت ہوتی ہے۔ ایک لڑکی کی کہانی جو برسوں اپنے گائوں کی حویلی میں اپنے محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ ہر شخص کی کڑوی باتیں برداشت کرتی رہی۔ باپ کے طعنے سنتی رہی۔ پورا گاؤں اس کے خلاف زہر اُگل رہا تھا لیکن یوجین محبوب کا انتظار کرتی رہی۔ سات برس بعد جب یہ جان لیوا انتظار ختم ہوا تو ایک ٹریجڈی یوجین کی منتظر تھی۔اس ناول میں جہاں آپ کو فرانسیسی معاشرے کے غلیظ، لالچی اور کنجوس کردار ملیں گے جن سے آپ نفرت محسوس کریں گے وہیں مادام گرینڈ، یوجین گرینڈ اور نائے نن جیسے خوبصورت کردار بھی ملیں گے جن کے لیے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں رُک سکیں گے۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ بالزاک کے اس دعوے کومان لیں گے کہ جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا وہ میں ا پنے قلم سے کروں گا۔


مصنف:

بالزاک (1799-1850ء) ایک سرکاری ملازم کے گھر پیرس کے قریب گاؤں میں پیدا ہوا۔ بڑا ہوا تو پیرس چلا گیا جہاں اس نے ایک وکیل کے ہاں کلرک کی ملازمت کر لی ۔ 1820-1824ء کے درمیان نک نیم سے کئی ناولز لکھے۔ بات نہ بنی تو پبلشنگ اور پرنٹنگ کی طرف دھیان دیا۔ تیس سال کی عمر میں بہت مقروض ہو گیا تو دوبارہ ادب کی طرف لوٹ آیا اور پہلا ناول "The Chouans" اپنے نام سے لکھا۔ اگلے بیس برس میں اس نے نوے کے قریب ناولز اور شارٹ اسٹوریز لکھیں جن میں ’’بڈھا گوریو‘‘ سمیت کئی شاہکار ناولز شامل تھے۔ اپنی ان سب تحریروں کو اس نے ہیومین کامیڈی کا نام دیا ۔ بالزاک کے اٹھارہ برس سے پولینڈ کی ایک نواب زادی سے تعلقات تھے، اس سے شادی کے چند ماہ بعد اکاون برس کی عمر میں چل بسا۔

مترجم:
رؤف کلاسرا نے اپنا سفر دُور دراز بستی جیسل کلاسرا کے ٹاٹ سکول سے شروع کیا۔ لیہ کالج سے انگریزی لٹریچر میں بیچلر آف آرٹس کیا۔ ایم اے انگریزی بہاء الدین یونیورسٹی ملتان سے کیا۔ گولڈ اسمتھ کالج، لندن یونیورسٹی سے پولیٹکل کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا۔ 1993ء میں اپنا صحافتی سفر ’’دی فرنٹ ایئر پوسٹ‘‘ ملتان سے اپرنٹس رپورٹر کے طور پر شروع کیا۔ پاکستان کے بڑے انگریزی اخبارات ڈان، دی نیوز، ایکسپریس ٹریبون میں رپورٹر کے طور پر پندرہ برس کام کیا۔ اس دوران انہیں APNS کے تین برس مسلسل سال کے بہترین رپورٹر کا انعام بھی ملا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے پانچ سکینڈلز پر از خود نوٹس لیے اور ذمے داروں کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ ’’دی نیوز‘‘ کے لیے لندن سے بھی رپورٹنگ کی۔پرنٹ کے بعد ٹی وی جرنلزم کا رُخ کیا۔ جیو، اے آر وائی اور ایکسپریس ٹی وی میں کام کیا۔ 92چینل میں عامر متین کے ساتھ پروگرام ”مقابل“ شروع کیا جو بہت مقبول ہوا۔ روزنامہ جنگ میں 2007ء سے کالم نگاری شروع کی۔ اب 2011ء سے دُنیا اخبار میں کالم لکھ رہے ہیں۔ جرنلزم میں ان کے کریڈٹ پر سینکڑوں ایکسکلُوسو خبریں، سکینڈلز اور سکوپ ہیں جو بریک کیے۔

RELATED BOOKS