NAI URDU QAWAID نئی اردو قواعد

Nai Urdu Qawaid
<span dir='ltr' class='left text-left'>NAI URDU QAWAID</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>نئی اردو قواعد</span>

PKR:   600/-

Author: ISMAT JAVED
Year: 2019
ISBN: 978-969-662-216-1
Categories: LINGUISTICS LANGUAGE

ایک عرصے سے میری یہ دلی خواہش تھی کہ اُردو میں ایک ایسی توضیحی قواعد لکھی جائے جس میں ہماری زبان کی توضیح لسانیات کی روشنی میں کی گئی ہو۔ دیگر علوم کی طرح قواعد کی ایجاد کا سہرا بھی یونان کے سر ہے۔ ابتدا میں قواعد ’علم زبان‘ (فلالوجی) کا ایک حصہ ہونے کی حیثیت سے فنِ خطابت، مطالعہ ادبیات اور فلسفہ و منطق کی ایک شاخ تھی لیکن لسانیات کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ اسی کا حصہ بنتی گئی اور آج وہ لسانیات کا ایک جزولاینفک ہے۔ یورپ میں ساختی قواعد اور تبادلی قواعد نے فنِ قواعد نویسی میں ایک انقلاب پیدا کر دیا اور آج قواعد ’آرٹ‘ کے دائرے سے نکل کر ’سائنس‘ میں قدم رکھ چکی ہے۔ ہمارے یہاں اُردو قواعد پر درسی کتابوں کی کمی نہیں لیکن اُن میں اکثر عربی قواعد کے نمونے پر لکھی گئی ہیں اور ان میں اکثر ایسی قواعدی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو عربی قواعد کے لیے موزوں ہیں… پلیٹس کی قواعد جو انگریزی زبان میں ہے:
A Grammar of Hindustani or Urdu.
اور مولوی عبدالحق کی ’’قواعد اردو‘‘ اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان میں عربی قواعد کو نمونہ نہیں بنایا گیا ہے لیکن اب یہ قواعدیں بھی پرانی ہو چکیں۔ چنانچہ میں نے تین سال کے طویل عرصے میں یہ کام مکمل کر لیا۔ منصوبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل نیا تھا۔ راستہ بھی دُشوار گزار تھا اور جہاں تک اُردو کا تعلق ہے خود ہمارے لسانیاتی ادب میں قواعد نویسی کے سلسلے میں بہت کم لکھا گیا تھا۔ اس لیے جب پہلی بار میں نے یہ کام مکمل کر لیا تو میں خود اس سے مطمئن نہیں تھا۔ اس لیے اِسے دوبارہ لکھا۔ پھر بھی مطمئن نہیں ہوا تو تیسری بار اس پر نظر ثانی کی اور اب یہ اپنی موجودہ شکل میں آپ کی خدمت میں پیش ہے۔
اس قواعد میں آپ کو اُردو میں پہلی بار نئے مباحث ملیں گے۔ پتا نہیں میں اُن سے کہاں تک عہدہ برآ ہو سکا ہوں۔ البتہ اگر انہیں بزور کوئی اتنا بھی اعتراف کر لے کہ
ع جس طرف دیکھا نہ تھا اب تک ادھر دیکھا تو ہے
تو میں اسے بھی اپنا کارنامہ سمجھوں گا۔ میں نے لسانی اصطلاحات کے اُردو ترجمے کے سلسلے میںترقی اُردو بورڈ کی مجوزہ اصطلاحات کو پیش نظر رکھا ہے اور اِن اصطلاحات کی اُردو انگریزی اور انگریزی اُردو فرہنگیںبھی مرتب کر کے کتاب کے آخر میں شامل کر دی ہیں۔
یہ کتاب قواعد پر حرفِ آخر نہیں ہے۔ اگر کوئی سر پھرا اس کام کو آگے بڑھائے تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت اکارت نہیں گئی۔
گماں برکہ بپایاں رسید کارمغاں
ہزار بادہ ناخوردہ در رگِ تاک ست

عصمت جاوید

-----

روزنامہ ایکسپریس | سنڈے میگزین 12 جنوری 2020ء
بُک شیلف | عبید اللہ عابد

نئی اُردو قواعد
مصنف: عصمت جاوید
قیمت: 600 روپے
ناشر: بک کارنر جہلم
واٹس ایپ: 03215440882

ایک عرصہ سے اُردو میں ایک ایسی توضیحی قواعد لکھے جانے کی ضرورت تھی جس میں اُردوزبان کی توضیح لسانیات کی روشنی میں کی گئی ہو۔ دیگرعلوم کی طرح قواعد کی ایجاد کا سہرا بھی یونان کے سر ہے۔ ابتدا میں قواعد ’علم زبان‘ (فلالوجی) کا ایک حصہ ہونے کی حیثیت سے فنِ خطابت، مطالعہ ادبیات اور فلسفہ و منطق کی ایک شاخ تھی لیکن لسانیات کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ اسی کا حصہ بنتی گئی اور آج وہ لسانیات کا ایک جزولاینفک ہے۔ یورپ میں ساختی قواعد اور تبادلی قواعد نے فن قواعدنویسی میں ایک انقلاب پیدا کردیا اور آج قواعد ’آرٹ‘ کے دائرے سے نکل کر ’سائنس‘ میں قدم رکھ چکی ہے۔

ہمارے یہاں اُردو قواعد پر درسی کتابوں کی کمی نہیں لیکن ان میں اکثرعربی قواعد کے نمونے پر لکھی گئی ہیں اور ان میں اکثر ایسی قواعدی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو عربی قواعد کے لئے موزوں ہیں۔ تاہم زیرنظرکتاب اس پہلو کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے، صوت، صرف، نحو، مشتقات ومرکبات اور فہرست اصطلاحات۔ کتاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس میں آپ کو اردو میں پہلی بار نئے مباحث ملیں گے۔اس میں لسانی اصطلاحات کے اردو ترجمے کے سلسلے میں ترقی اردوبورڈ کی مجوزہ اصطلاحات کو پیش نظر رکھاگیاہے اور ان اصطلاحات کی اردو انگریزی اور انگریزی اردو فرہنگیں بھی مرتب کرکے کتاب کے آخر میں شامل کردی گئی ہیں۔ کتاب اُردو سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک شاندار تحفہ ہے۔

RELATED BOOKS