History of the Ottoman Empire - 3 Volumes Set
<span dir='ltr' class='left text-left'>HISTORY OF THE OTTOMAN EMPIRE - 3 VOLUMES SET</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>تاریخ سلطنت عثمانیہ ۔ 3 کتابوں کا سیٹ</span>

HISTORY OF THE OTTOMAN EMPIRE - 3 VOLUMES SET تاریخ سلطنت عثمانیہ ۔ 3 کتابوں کا سیٹ

PKR:   3880/- 2910/-

Pages: 1740
Author: DR. MUHAMMAD UZAIR
Tag: DR. MUHAMMAD MUSTAFA SAFWAT
Categories: HISTORY BOOKS PACKAGES / BUNDLE OFFERS

کتابوں کی اشاعت کا معیار ایسا کہ آپ واہ کہنے پر مجبور ہو جائیں
شخصیات، مقامات اور نقشہ جات کی نایاب کلرڈ تصاویر سے مزین

کتابوں کی تفصیلات:

✍️ تاریخ سلطنتِ عثمانیہ | مصنف: ڈاکٹر محمد عُزیر

عثمانی ترک، جن کا یہ نام کسی نسل یا قوم کی طرف نہیں بلکہ ان کے پہلے فرماں روا عثمان خان کی طرف منسوب ہے، ایشیائے کوچک میں پہلے خانہ بدوشوں کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ پھر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد ڈالی جو ڈیڑھ سو برس کے اندر دُنیا کی زبردست طاقتوں میں شمار کی جانے لگی۔ تین سو برس گزرنے نہ پائے تھے کہ عثمانی سلطنت وسعت اور طاقت کے لحاظ سے دُنیا کی سب سے زیادہ عظیم الشان سلطنت بن گئی۔ اس کے عروج کا دَور مشرق میں سلطان سلیم اوّل اور مغرب میں سلیمان اعظم کی فتوحات پر ختم ہوتا ہے، جس کی حکومت ایشیا، یورپ اور افریقہ کے وسیع حصوں میں قائم تھی۔ اس عہد میں عثمانی ترک ایک مرکزی یورپین طاقت تھے۔ ہنگری ان کے زیرنگیں تھا اور آسٹریا کے پایۂ تخت ویانا کی دیواروں تک ان کی فوجیں پہنچ چکی تھیں۔ ان کی ہیبت سارے یورپ پر چھائی ہوئی تھی۔ لیکن سلیمان اعظم کی زندگی ہی میں سلطنت کے اندر بعض کمزوریوں کے اسباب پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے، جو اِس کی وفات کے بعد روز بروز نمایاں ہوتے گئے۔ سلیمان کے بعد جتنے سلاطین تخت پر بیٹھے، ان میں سے معدودے چند کے علاوہ کسی میںسلطنت عثمانیہ کی فرماں روائی کی اہلیت نہ تھی۔ چنانچہ جس طرح آہستہ آہستہ اس سلطنت کا عروج ہوا تھا، اسی آہستگی کے ساتھ اس کا زوال بھی شروع ہوا اور اس کے زوال کی مدت بھی اس کے عہد عروج کی طرح تین سو سال ہے۔ ان میں سے آخری ڈیڑھ سو برس میں سلطنت عثمانیہ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور سلطنتوں کا مقابلہ کرتی رہی مگر اندرونی کمزوریوں کے باعث ایسی پے در پے شکستیں اٹھائیں کہ بالآخر1922ء میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ حال ہی میں جمہوریہ ترکیہ نے اپنے چند سالہ قیام میں ان تمام کمزوریوں کو جو سلطنتِ عثمانیہ کی تباہی کا باعث ہوئی تھیں، دُور کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں اس کی کامیابی تاریخِ عالم کے حیرت انگیز کارناموں میں سے ہے۔ اس نے گزشتہ سلطنت کے کھنڈر پر ایک مستحکم قلعہ تعمیر کر لیا ہے جو ترکی قوم کے عزم و استقلال کی ایک زندہ مثال ہے۔ یورپ کا ’’مردِ بیمار‘‘ دم توڑنے کے بعد نہ صرف جی اُٹھا بلکہ اس کے اندر صحت و شباب کی ساری قوتیں عود کر آئیں تاآںکہ بیسویں صدی کی عیسائی دُنیا کو بھی اس معجزہ کا قائل ہونا پڑا۔ یہ کتاب ان ہی واقعات کی تفصیل پر مشتمل ہے۔ ان صفحات کی ترتیب میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی اور فارسی کی مستند ترین کتابوں نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لی گئی ہے اور تلاش و تحقیق کا کوئی دقیقہ حتی الامکان فروگزاشت نہیں کیا گیا ہے۔

ضخامت 600 صفحات | قیمت: 2500 روپے

✍️ سلطان محمد فاتح | ڈاکٹر محمد مصطفٰے صفوت

جہاں اِسلامی جرنیلوں میں سیدنا عمر فاروق اعظم ، سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا خالد بن ولید، حضرت عمرو بن العاص، صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم کے نام بڑے معروف ہیں وہاں تاریخی اوراق میں سلطان محمد فاتح کانام بھی بڑی نمایاں حیثیت کے ساتھ لیا گیا ہے۔ عیسائی دُنیا کے اس سب سے اہم اور مقتدر مرکز کو جس فراست اور ہوشمندی سے اُسلامی دنیا کا حصہ بنایا گیا وہ کسی معجزہ سے کم نہ تھا مگر خشکی پر جہاز چلا دینے والا یہ سلطان محض فاتح قسطنطنیہ ہی نہ تھا۔ اس کی فتوحات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ پھر وہ محض ایک بڑا فاتح ہی نہ تھا، بلکہ ایک باتدبیر منتظم بھی تھا۔ اس نے سلطنت کے نظام کو بہترین خطوط پر چلانے کے لئے جس طرح چیدہ چیدہ جوانوں کی تربیت کا اہتمام کیا وہ آج کی اسلامی مملکتوں کے لئے بھی ایک روشن مثال ہے۔ یہ کتاب بڑے سادہ لیکن مؤثر انداز سے سلطان محمدفاتح کی دلچسپ اور حیات پرور داستان بیان کرتی ہے۔

ضخامت 240 صفحات | قیمت: 480 روپے

✍️ داستانِ حرم سرا
آخری عثمانی سلطان عبدالحمید ثانی کے حرم کی ان کہی داستان
سلطان کی محبوبہ نشاط سلطانہ کے قلم سے

نشاط خانم جارجیا کے ایک مسلمان قبیلے کے سردار کی لڑکی تھی۔ خوبصورت، سمن بر، پری پیکر۔ اس کے جمال و رعنائی کو آسمان کے تارے جُھک جُھککر دیکھتے تھے۔ اس کی برنائی اور زیبائی کے سامنے چاند ماند تھا۔ وہ شہسوار تھی، قادر انداز تھی۔ وہ وادیوں کی سیر کرتی، کوہستانی علاقوں میں بُوئے گل کی طرح عنبر افشانی کرتی لیکن ایک روز اس کی شاندار حویلی پر قزاقوں نے حملہ کیا۔ وفادار اور جاںنثار خادمائوں اور غلاموں نے خون کے آخری قطرے تک حقِ وفا نبھایا۔ خود نشاط خانم آخر وقت تک بندوق اور پستول چلاتی رہی۔ آخر وہ گرفتار کر لی گئی۔ گرفتار ہو کر غلاموں کے بازار میں پہنچی، نیلام ہوا، اور سَو اشرفی میں وہ خرید لی گئی۔ وہ قسطنطنیہ لے جائی گئی جو خلافتِ عثمانیہ اور حکومتِ ترکیہ کا پایۂ تخت تھا۔ یہاں وہ حَرم سرا میں باندی کی حیثیت سے داخل ہوئی اور ایک روز سلطان عبدالحمید ثانی کی منظورِ نظر بن کر نہ صرف حَرم سرا کی ملکہ، بلکہ سارے مُلک کی فرماںروا بن گئی۔
قسمت کا کھیل! .....عثمانی سلطان اور اس کی حَرم سرا کے بارے میں افواہوں، سازشوں اور جھوٹ پر مبنی بہت سی داستانیں انگریزوں نے لکھی ہیں، جن کا ایک حرف بھی سچ نہیں۔ نشاط سلطانہ نے اپنی سرگزشتِ حیات "My Harem Life" کے نام سے لکھی ہے جو دلچسپ بھی ہے، سبق آموز بھی اور عبرت انگیز بھی! یہ ناول بھی ہے اور تاریخ بھی!.....ناول سے زیادہ دلچسپ اور تاریخ کی طرح مستند!.....اس میں محلات کی سازشیں، حَرم سرا کی زندگی، ترکوں میں آزادی اور استقلال کی تحریک، سلطان کی معزولی، نئی حکومت کے قیام اور نئی ترک عورت کی کہانی نشاط خانم نے لکھ کر قلم توڑ دیا ہے۔ کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ شروع کرنے کے بعد ختم کیے بغیر چین نہیں آ سکتا۔ (رئیس احمد جعفری)

ترجمہ: رئیس احمد جعفری | نظرثانی: سلمان خالد | قیمت 900 روپے

RELATED BOOKS