AHAD E LORD MOUNTBATTEN عہد لارڈ ماؤنٹ بیٹن

Ahad e Lord Mountbatten Ahad e Lord Mountbatten
<span dir='ltr' class='left text-left'>AHAD E LORD MOUNTBATTEN</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>عہد لارڈ ماؤنٹ بیٹن</span>

PKR:   1,500/-

Author: ALAN CAMPBELL JOHNSON
Tag: 2621
Year: 2020
ISBN: 978-969-662-233-8
Categories: HISTORY PAKISTANIAT

کچھ کتاب کے بارے میں:

جولائی 1942ء میں یکایک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اسٹاف میں مجھے ایئر پبلک ریلیشنز آفیسر کا عہدہ مل گیا۔ اس کی و جہ غالباً یہ تھی کہ میں رائل ایئر فورس سروس میں کام کر چکا تھا۔ اس کے پندرہ ماہ کے بعد جب وہ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے سپریم الائڈ کمانڈر نامزد ہوئے تو انھوں نے اپنی انٹر کمان اور انٹر ریکارڈ سیکشن کا سارا چارج مجھے دے دیا۔ انھوں نے مجھے اس جگہ پر صرف اس لیے نہیں لا بٹھایا تھاکہ سرکاری دستاویزات سے ان کے لیے اطلاعات فراہم کرتا رہوں، بلکہ وہ مجھے اپنی اونچی سطح کے جلسوں اور ہفتہ وار انٹرویو میں بھی شریک کرتے تاکہ پس منظر کے طور پر ان کو ریکارڈ دیا کروں۔ اسی اثنا میں ان کو وائسرائے ہند کے عہدے کی پیش کش ہوئی۔ میں چونکہ ماؤنٹ بیٹن کی مشین کے ایک پرزہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے اپنا پریس اتاشی بنا دیا۔ اتفاق کی بات اس سے پہلے ہندوستان میں جتنے بھی وائسرائے ہوئے، ان کے اسٹاف میں پریس اتاشی کا عہدہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ اس کتاب کی بنیاد میں نے اپنے نوٹس، خطوط اور یادداشت پر رکھی ہے اور اس کا مقصد محض اس عہد کی ایک کہانی بیان کرنا ہے جس عہد میں ہندوستان کو اختیارات منتقل کیے گئے۔ میں نے اپنی ڈائریوں میں مستقبل کی تاریخ کے لیے مواد فراہم کر دیا ہے، ان میں تاریخ بیان نہیں کی ہے۔ ساتھ ہی یہ ڈائریاں ایک طرح کی عینی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان میں ہندوستان پر ’’دوسرا فیصلہ یا فتویٰ‘‘ صادر نہیں کیا گیا ہے۔ جن واقعات کے طوفانوں مَیں سے گزرا ہوں یا جن شخصیات کی صحبتیں میں نے اٹھائی ہیں وہ مجھ سے اتنی قریب ہیں کہ میں ان واقعات و شخصیات کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ تجزیہ کا فائدہ اُس وقت پہنچ سکتا تھا اگر فضا سازگار ہوتی، اور جن آراکا ہم اظہار کرتے ان کو سراہا جاتا۔ اگر آپ ان ڈائریوں، میں میری عجلت پسندی محسوس کرتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی و جہ یہ ہے کہ ہمارے کام کی رفتار انتہائی تیز تھی اور اگر ان میں تسلسل اور ترتیب بھی نظر نہ آئے تو اس کے بنیادی اسباب وہ مسائل تھے جن کا جلد از جلد حل نکالنا تھا۔

(ایلن کیمبل جانسن )


کچھ مصنف کے بارے میں:

ایلن کیمبل جانسن (16جولائی1913ء -25جنوری 1998ء) کا کیریئر ابتدا سے ’تصنیف وتالیف، سیاست، صحافت اور تعلقاتِ عامہ‘ کی چار سطحوں پر محیط تھا۔ اس نے ویسٹ منسٹر سکول اور کرائسٹ چرچ آکسفرڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1937ءسے 1940ء کے دوران سر آرچی بالڈ سنکلیئر، لبرل رہنما کے پولیٹیکل سیکریٹری کے طور پر بھی کام کیا۔ اس دوران اس نے انتھونی ایڈن اور لارڈ ہیلی فیکس کی مفصل سوانح عمری بھی تحریر کیں۔ مؤخرالذکر تحریر پر اسے سرونسٹن چرچل سے داد وتحسین بھی ملی۔ جنگ عظیم دوئم (1939-45ء) کے دوران اس نے چار سال رائل ایئر فورس (RAF) میں گزارے۔ اس دوران وہ کمبائنڈ آپریشن کے دوران لارڈ مائونٹ بیٹن کے ہیڈکوارٹر ریکارڈ سٹاف کے سربراہ کے طور پر بھی تعینات رہا اور سائوتھ ایسٹ ایشیا کمانڈ میں بھی انٹرالائیڈ ریکارڈز سیکشن کے آفیسرانچارج کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اس نے دو دفعہ سالسبری سے لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔ وہ ایک معروف براڈکاسٹر اور تعلقاتِ عامہ کے ایک مشاورتی ادارے کا بانی رکن اور مینیجنگ ڈائریکٹر بھی تھا۔ اس ادارے نے نمایاں برطانوی اور دیگر بین الاقوامی کاروباری حلقوں کو خدمات فراہم کیں۔ "Mission with Mountbatten" ایلن کیمبل جانس کی لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ تیسری مہم کے روزوشب کا احوال ہے جب وہ 1947ء سے ہندوستان کے آخری وائسرائے اور پہلے آئینی گورنرجنرل مائونٹ بیٹن کے پریس اتاشی کے عہدے پر فائز تھا۔ اسی دورانیے میں اپنی ڈائری میں درج یادداشتوں کی مدد سے یہ کتاب مرتب کی گئی جو پہلی مرتبہ 1951ء میں منظرِ عام پر آئی۔ ایلن کیمبل نے 85 سال کی عمر میں 25 جنوری 1998ء کو برطانیہ میں انتقال کیا۔

RELATED BOOKS