Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania Tarikh Saltanat e Usmania
<span dir='ltr' class='left text-left'>TARIKH SALTANAT E USMANIA</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>تاریخ سلطنت عثمانیہ</span>

TARIKH SALTANAT E USMANIA تاریخ سلطنت عثمانیہ

PKR:   1500/-

Pages: 600
Author: DR. MUHAMMAD UZAIR
Tag: SHAHID HAMEED
Categories: ISLAM HISTORY

عثمانی ترک، جن کا یہ نام کسی نسل یا قوم کی طرف نہیں بلکہ ان کے پہلے فرماں روا عثمان خان کی طرف منسوب ہے، ایشیائے کوچک میں پہلے خانہ بدوشوں کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ پھر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد ڈالی جو ڈیڑھ سو برس کے اندر دُنیا کی زبردست طاقتوں میں شمار کی جانے لگی۔ تین سو برس گزرنے نہ پائے تھے کہ عثمانی سلطنت وسعت اور طاقت کے لحاظ سے دُنیا کی سب سے زیادہ عظیم الشان سلطنت بن گئی۔ اس کے عروج کا دَور مشرق میں سلطان سلیم اوّل اور مغرب میں سلیمان اعظم کی فتوحات پر ختم ہوتا ہے، جس کی حکومت ایشیا، یورپ اور افریقہ کے وسیع حصوں میں قائم تھی۔ اس عہد میں عثمانی ترک ایک مرکزی یورپین طاقت تھے۔ ہنگری ان کے زیرنگیں تھا اور آسٹریا کے پایۂ تخت ویانا کی دیواروں تک ان کی فوجیں پہنچ چکی تھیں۔ ان کی ہیبت سارے یورپ پر چھائی ہوئی تھی۔ لیکن سلیمان اعظم کی زندگی ہی میں سلطنت کے اندر بعض کمزوریوں کے اسباب پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے، جو اِس کی وفات کے بعد روز بروز نمایاں ہوتے گئے۔ سلیمان کے بعد جتنے سلاطین تخت پر بیٹھے، ان میں سے معدودے چند کے علاوہ کسی میںسلطنت عثمانیہ کی فرماں روائی کی اہلیت نہ تھی۔ چنانچہ جس طرح آہستہ آہستہ اس سلطنت کا عروج ہوا تھا، اسی آہستگی کے ساتھ اس کا زوال بھی شروع ہوا اور اس کے زوال کی مدت بھی اس کے عہد عروج کی طرح تین سو سال ہے۔ ان میں سے آخری ڈیڑھ سو برس میں سلطنت عثمانیہ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور سلطنتوں کا مقابلہ کرتی رہی مگر اندرونی کمزوریوں کے باعث ایسی پے در پے شکستیں اٹھائیں کہ بالآخر1922ء میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ حال ہی میں جمہوریہ ترکیہ نے اپنے چند سالہ قیام میں ان تمام کمزوریوں کو جو سلطنتِ عثمانیہ کی تباہی کا باعث ہوئی تھیں، دُور کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں اس کی کامیابی تاریخِ عالم کے حیرت انگیز کارناموں میں سے ہے۔ اس نے گزشتہ سلطنت کے کھنڈر پر ایک مستحکم قلعہ تعمیر کر لیا ہے جو ترکی قوم کے عزم و استقلال کی ایک زندہ مثال ہے۔ یورپ کا ’’مردِ بیمار‘‘ دم توڑنے کے بعد نہ صرف جی اُٹھا بلکہ اس کے اندر صحت و شباب کی ساری قوتیں عود کر آئیں تاآںکہ بیسویں صدی کی عیسائی دُنیا کو بھی اس معجزہ کا قائل ہونا پڑا۔ یہ کتاب ان ہی واقعات کی تفصیل پر مشتمل ہے۔ ان صفحات کی ترتیب میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی اور فارسی کی مستند ترین کتابوں نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لی گئی ہے اور تلاش و تحقیق کا کوئی دقیقہ حتی الامکان فروگزاشت نہیں کیا گیا ہے۔

محمد عُزیر

RELATED BOOKS