Roshan Rahain
<span dir='ltr' class='left text-left'>ROSHAN RAHAIN</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>روشن راہیں - تخلیقی ذہن اور تخلیقی تعلیم کا فروغ</span>

ROSHAN RAHAIN روشن راہیں - تخلیقی ذہن اور تخلیقی تعلیم کا فروغ

PKR:   800/-

Author: PROF. SAEED RASHID ALIG
Categories: CHARACTER BUILDING PAKISTANIAT EDUCATION

پروفیسر سعید راشد نے اپنی جوانی اور عمر کا ایک بڑا حصہ جہلم میں گزارا۔ ملٹری کالج جہلم میں ان کی خدمات کا ہمیشہ اعتراف کیا جاتا رہے گا۔ کردار سازی، تعلیم اساتذہ، پاکستانیت اور تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے والانصاب ان کا نصب العین تھا۔ وہ ایک معلم اور مؤرخ بھی تھے جن کی درجنوں کتب آج بھی مقبول عام کا درجہ رکھتی ہیں۔ پاکستانیت اور کردار سازی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور وہ تعلیم کے فرسودہ نصاب میں بڑی اور مثبت تبدیلیوں کے خواہاں تھے۔ ان کے نزدیک نصاب کا اولیں مقصد کردار سازی، تعمیر اخلاق اور اظہار ِ تخلیق ہے ، اگر یہ چیزیں نصاب میں شامل نہ ہوں تو نصاب مردہ ہوجاتا ہے جس کا منفی اثر قوم پر پڑتا ہے جبکہ پاکستانی ابھی قوم بننے کے مرحلے میں ہیں۔ جب تک تاریخ و ادب کے قارئین باقی ہیں پروفیسر سعید راشد کا نام بالخصوص جہلم اور بالعموم پاکستان بلکہ دنیا بھر میں گونجتا رہے گا۔ سعید راشد 20 جنوری 1927 ء کو پیدا ہوئے۔ پرائمری تعلیم کوتوالی سے جبکہ درجہ چہارم سے ایف اے تک اسلامیہ انٹر کالج، بریلی میں تعلیم حاصل کی۔یہ کالج سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک کی وجہ سے وجود میں آیا تھا۔ ان کے عہد شباب میں بریلی میں تحریک پاکستان بھی اپنے پورے جوبن پر تھی۔ انہوں نے1942 ء میں عطااللہ شاہ بخاری اور ظفر علی خان کے خطاب بھی سنے اورآخر قائداعظم محمد علی جناح کا دل نشیں خطاب سننے کا بھی موقع آیا۔ 1949 ء میں انہوں نے اُردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ٹیچر ٹریننگ کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں ان کو ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر ہادی حسن، ڈاکٹر خواجہ غلام السیدین، پروفیسر رشید احمد صدیقی اور پروفیسر حبیب الرحمٰن جیسے اساتذہ سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے سر سید احمد خاں کی تحریک اور تحریک پاکستان سے زبرد ست اثر لیا۔ 11 جون 1950 ء میں انہوں نے پاکستان کی دھرتی پر قدم رکھا اور 21 جون کو انہوں نے ملٹری کالج جہلم میں انٹرویو دیا اور 22 جون کو اس ادارے سے منسلک ہوگئے۔ 1990ء میں ملٹری کالج، جہلم کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے اور پھر اگلے چار برس تک آرمی پبلک سکول جہلم اور منگلا کینٹ کے پرنسپل رہے۔ اسلام آباد تعمیر ملت انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن ریسرچ کے ڈائریکٹر رہے۔ سلطانہ فاؤنڈیشن، اسلام آباد میں تعمیر کردار اور پاکستانیت کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ 19 جون 1999 ء کو راولپنڈی میں علالت کے بعد اس جہان فانی میں اپنے انمٹ نقوش اور یادگار تحریریں چھوڑ کر ہمیشہ کےلیے رخصت ہوگئے۔ ان کی متعدد کتب بک کارنر جہلم سے شائع ہوئیں۔

RELATED BOOKS