Aqwam e Pakistan ka Encyclopedia Aqwam e Pakistan ka Encyclopedia
<span dir='ltr' class='left text-left'>AQWAM E PAKISTAN KA ENCYCLOPEDIA</span> <span dir='rtl' class='right text-right'>اقوامِ پاکستان کا انسائیکلوپیڈیا</span>

AQWAM E PAKISTAN KA ENCYCLOPEDIA اقوامِ پاکستان کا انسائیکلوپیڈیا

PKR:   2500/-

Pages: 984
Author: ANJUM SULTAN SHAHBAZ
Categories: HISTORY PAKISTANIAT CASTES OF PAKISTAN

یہ 1992ء کا ذکر ہے۔ میں تا ہنوز جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ ایک شام میں اپنے انکم ٹیکس ایڈوائزر مسٹر ہاپٹ مان (Herr Hauptmann) کے دفتر میں گیا۔ میں نے اُنھیں ضروری کاغذات دیے اور جب پلٹنے لگا تو اُنھوں نے کہا، ”اگر آپ کے پاس وقت ہے تو چائے کا ایک کپ پی لیجیے۔ آپ میرے آخری مؤکل تھے، میں اب فارغ ہوں۔ اگر آپ چاہیں تو تھوڑی بہت گپ شپ لگا لیتے ہیں۔“
میں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اُن کے خاندانی نام کی وجہ تسمیہ اور اُس کا پس و پیش پوچھا۔ اُنھوں نے کہا، ”جرمن زبان میں ’ہاپٹ مان‘ کے لغوی معنی ”بڑے آدمی“ کے ہیں یعنی ایسا شخص جو کسی شعبہ کا سربراہ ہو مثلاً پولیس کا تھانیدار، تحصیلدار یا داروغہ مطبخ وغیرہ۔“ اُس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”میرے جدّ امجد آج سے 870 برس قبل سوئٹزرلینڈ سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔“
میں نے حیرت سے پوچھا، ”یہ قرن و سال آپ اتنی قطعیت سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟“ اُنھوں نے کہا، ”میرے پاس ایک ہزار سال کا تحریری شجرہ نسب موجود ہے۔ چنانچہ مجھے مکمل طور پر معلوم ہے کہ میرے اجداد نے کہاں کہاں ہجرت کی اور آج اُن کی اولادیں کہاں کہاں آباد ہیں۔“
میرے لیے یہ بڑی چونکا دینے والی خبر تھی۔ اُنھوں نے پل بھر سانس لینے کے بعد کہا کہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں۔ آپ کو ہمارے ہاں (جرمنی) ایک بھی ایسا شہری نہیں مل پائے گا جس کے پاس کم از کم پانچ سو برس کا خاندانی شجرہ نسب محکمۂ آبادی کی جانب سے تصدیق شدہ مہر کے ساتھ موجود نہ ہو۔ کم و بیش پورے یورپ میں یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ شاید ہی ان ممالک میں کوئی ایک آدھ ایسا مہاجر پایا جائے جو پانچ سو سال کے شجرہ نسب پر پورا نہ اُترتا ہو۔ یورپ کو تو چھوڑیے ایک طرف… عربوں، ترکوں، چینیوں، ویت نامیوں، مالائیوںاور کوریائوں کے ہاں بھی شجرہ نسب کا بحران نہیں پایا جاتا۔ افغانوں کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس کو اپنے پانچ سات سو سال کی تاریخ ازبر نہ ہو حتیٰ کہ ہندوستان میں بھی برہمنوں، کھشتریوں، ویشوں اور شودروں کی تفریق صدیوں سے اُسی طرح چلی آ رہی ہے۔ خاندانوں کے پسِ منظر، ذاتوں، برادریوں اور گوتوں کا جو بحران ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ شاید ہی کسی اور سماج میں مل سکے۔ ذات پات کے اس شمشان میں انجم سلطان شہباز نے آدھی جلی اور آدھی گلی سڑی لاشوں کو ڈھونڈنے، پہچاننے اور ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس محنت کے لیے وہ مکرّر تحسین کے لائق ہیں۔ اگر انھیں تاریخ کی ان اندھیری قبروں میں گڈمڈ لاشوں کی ایک ٹانگ راجپوت دکھائی دی تو دوسری کسی اور قبیلے کی… تو یہ اُن کا قصور نہیں۔ دراصل خود شناسی سے شاید ہی کوئی بڑا بحران ہو۔ ہم اسی بحران سے دوچار ہیں اور یہی المیہ ہماری ساری تاریخ کو چاٹ گیا ہے۔ غالباً اسی لیے آج ہم اپنے بچوں کو نہ تاریخ پڑھاتے ہیں اور نہ جغرافیہ… مجھے یقین ہے کہ ہم ایک دن اس اندھے کنویں سے باہر نکلنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ (راجہ انور)

RELATED BOOKS